Slideshow Image 1
Slideshow Image 11
Slideshow Image 12
Slideshow Image 2
Slideshow Image 3
Slideshow Image 4
Slideshow Image 5
Slideshow Image 6
Slideshow Image 7
Slideshow Image 8
Slideshow Image 9
Slideshow Image 10

امیگریشن ونگ

تعارف

اینٹی انساننی اسگلمنگ ونگ(آئی اینڈ اے ایچ ایس) 9 جون 1975 کو قائم کیا گیا بعد ازان ، وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت درجہ ذیل تاریخوں پر مختلف چوکیوں کو صوبائی امیگریشن حکام(یعنی اسپیشل برانچ) کے طور پر لے جایا گیا

  • پنجاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9 جون 1975
  • خیبر پختونخواہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9 جون 1975
  • بلوچستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔11 جون 1975
  • سندھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔20 نومبر 1975

افرادی قوت کی شدید قلت اور دیگر وسائل کی کمی کے باعث اس ونگ کی سرگرمیاں وسیع بنیاد پر متاثر ہوئیں۔ 2003میں اینٹی اسمگلنگ ونگ کو دوبارہ چلایا گیا اور ملک بھر میں اس کے مختلف یونٹ قائم کئے گئے۔

اس ونگ نے بین الاقوامی مسافروں کے لئے ایک منظم نظام برائے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام تشکیل دیا۔ یہ نظام درجہ ذیل اترنے اور چڑھانے کے مقامات پر لاگو ہوتا ہے۔

  • 13 ائر پورٹس /ہوائی اڈے
  • 05 زمینی راستے
  • 04 سمندری راستے/بندرگاہوں
  • 02 ریلوے اسٹیشن

انسداد انسانی اسمگلنگ/سرکل

انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل(پہلے پاسپورٹ سرکل) مختلف شہروں میں امیگریشن آرڈینینس 1979، پاسپورٹ ایکٹ 1974،غیر ملکی ایکٹ 1946 پاکستان(کنٹرول) سے باہر نکلنے کا آرڈینینس 1981 اور مخٹلف دفعات برائے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) وغیرہ کے قوانین کے نفاذ کے لیے قائم کیا گیا۔

  • لاہور
  • کراچی
  • پشاور
  • کوئٹہ
  • ملتان
  • فیصل آباد
  • حیدرآباد
  • گوجرانوالہ
  • راولپنڈی
  • چمن
  • تربت
  • تفتان

انقرہ ترکی میں انسانی اسمگلنگ کے تربیتی کورس کے بارے میں رپورٹ

مسٹر عبد الرزاق چیمہ (ایڈیشنل ڈائریکٹر) نے انقرہ ترکی میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے کورس میں 23 یا 27 فروری تک شرکت کی۔ 18 مختلف ممالک سے 43 شرکاء موجود تھے۔ کورس کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹر، ایف آئی اے کراچی نے درج ذیل تجاویز دیں۔

  • تربیت جو سال میں دو دفعہ دی جاتی ہے، کےلئے افراد کی نامزدگی وازارت خارجہ امور کے ساتھ مل کر کرنی چاہیے تاکہ کاغذات نامزدگی کا عمل درآمد وقت پر ہو سکے۔
  • جونئیر افسران کی شرکت میں اضافہ کیا جائے اور خواتین افسران کو بھی یقینی بنایا جائے۔
  • پہلے سے ایف آئی اے میں قائم انٹر ایجنسی ٹاسک فورس (آئی اے یف ٹی) کو مزید موثر بنایا جائے۔ پی اے سی ایچ ٹی او (روک تھام اور انسانی اسمگلنگ آرڈینینس کے کنٹڑول)2002کی نقل کو دوبارہ تمام اراکین میں سرکولیٹ کیا جائے اورپیکٹو-2002 کو بڑے پیمانے پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور اس موضوع پر منعقد ہونے والے ورکشاپوں میں پرموٹ کیا جا نا چاہیے۔
  • این جی اوز اور اس موضوع پر کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے ان کو آئی اے ٹی ایف میں شامل کیا جانا چاہیے۔
  • انسانی اسمگلنگ اور انسداد انسانی اسمگلنگ کے بارے میں شعور بلند کرنے کے لئے اس موضوع پر ایف آئی اے اکیڈمی میں تربیتی کورس اور مختلف زونل ہیڈ کوارٹرز میں این جی اوز کی مدد سے ورکشاپوں کا انعقاد کرنا چاہیے۔
  • ایف آئی اے کی طرف سے علم مینیجمنٹ سنٹر قائم ہونا چاہیے جو خصوصی شعبوں میں ماہرین/تفتیش کاروں پر مشتمل ہو۔ ایسا سنٹر یوروپول میں موجود ہے۔
  • انسانوں کی اسمگلنگ کی تفتیش کے لئے کتابچہ تیار کرنا چاہیے۔ جس سے تحقیقات کی تکنینک اور طریقہ کار کو معیاری بنانے کے لئے مکمل رہنمائی حاصل ہو سکے۔
  • بارڈر سیکیورٹی فورسز کے لئے ہدایات تیار کی جانی چاہیے ، جو انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کی شناخت کرنے میں ان کےلئے مدد گار ثابت ہوں
  • مورخہ 16 فروری 2017

    مسلح افواج کے نام پر255جعلی سوشل میڈیا اکاونٹس کا انکشاف    مزید پڑھیں

  • مورخہ 15 فروری 2017

    دو گیٹ وے ایکسچینج پکڑی گۂیں    مزید پڑھیں

  • مورخہ 09 فروری 2017

    ایف آئی آے کا نجی ٹریولز ایجنسی پرچھاپہ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 06 فروری 2017

    کشتی حادثہ:سرگودھا سے بھی ایک ایجٹ گرفتار    مزید پڑھیں

  • مورخہ 05 فروری 2017

    چارانسانی اسمگلر گرفتار کر لۓ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 01 فروری 2017

    ترکی سے ڈی پورٹ ہونے والے 34 افراد گرفتار    مزید پڑھیں

  • مورخہ 30 جنوری 2017

    فحش وڈیو بنانے،انٹرنیٹ پر ڈالنےمیں پنجاب سرفہرست    مزید پڑھیں

  • مورخہ 28 جنوری 2017

    بلیک لسٹ پاسپورٹ پر سفر کی کوشش،مسافرآف لوڈ    مزید پڑھیں