Slideshow Image 1
Slideshow Image 2
Slideshow Image 3
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4

معاشی جرائم ونگ (ای سی ڈبلیو)

FIAانسداد رشوت ستانی اور معاشی جرائم ونگ نیب(NAB)کو 2004-08-16کو متنقل کر دی گئی تھی جو کہ اب دوبارہ ایف آئی اے (FIA)کے پاس ، 2008-08-16کے حکم نامہ کے تحت واپس آگیا ہے۔

معاشی جرائم ونگ کی سربراہی ، ہیڈ کوارٹر میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کرتے ہیں اور یہ معاشی جرائم ونگ کی عملی کاروائیوں کےلیے ڈائریکٹر جنرل کے معاون کار ہیں اور زونل ڈائریکٹرز کے زیر نگرانی یہ عمل انجام پاتا ہے۔ یہ ونگ ان مقدمات کی تفتیش کی ذمہ دار ہے، جو وفاقی حکومت کی طرف سے لگائے گئے ٹیکس کی چوری کے ذریعے حکومتی آمدنی کی چوری کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ان معاملات کی تفتیش بھی کرتا ہے ، جس میں ہر قسم کی غیر قانونی حرکات، فراڈ، بینکاری میں، عوامی سیکٹر میں، ہر قسم کی کارپوریشنوں اور نجی وغیر نجی تنظیمیں شامل ہیں جو وفاقی حکومت کے زیر اہتمام ہوں۔

آئی پی آر کا نفاذ

  1. ایف آئی اے(FIA)نے ایک مشاورتی کمیٹی برائے نفاذ IPRتشکیل دی ہے ،جس میں امینہ سید، مینیجنگ ڈائریکٹر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، کمال احمد، کنٹری مینیجر، مائکروسوفٹ کارپوریشن پاکستان، حسن عرفان خان، ایڈوکیٹ، عرفان اینڈ عرفان، ق، م، شاہد، پاکستان ٹوبیکو کمپنی، اکرام المجید سہگل، سیکیورٹی اینڈ مینیجمنٹ سروسز محمد صدیق ، کلیکٹر کسٹم (قانونی)بطور اعزازی ارکان شامل تھے۔
  2. ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے (FIA)کی دعوت پر مشاورتی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس 2 جولائی 2009ء منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس کی سربراہی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے (FIA)معاشی جرائم ونگ کے جناب عرفان ندیم نے کی۔ اوپر ذکر کئے گئے ممبران اور ایف آئی اے (FIA)اور افسران کے علاوہ سید خالد محمود بخاری، ڈائریکٹر جنرل آئی پی او(IPO)پاکستان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
  3. افتتاحی کلمات میں ڈائریکٹر جنرل، ای سی ڈبلیو(ECW)نے تمام شرکاء کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اس کے بعد شاہد ندیم بلوچ ڈائریکٹر آئی پی آر(IPR)نے ایف آئی اے (FIA)کی کاردگردگی ا ور مستقبل کی منصوبہ بندی کے بارے میں پریزینٹیشن دی، جس کو بہت سراہا گیا۔ شرکاء نے دیگر حالیہ مسائل جو کہ آئی پی آر(IPR)قوانین نفاذ کے اقدامات ، ممکنہ مشکلات اور آئی پی آر (IPR)قوانیں کے موثرمعاملات پر بحث کی۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈیٹا بیس کو مرکزی بنایا جائے اور تفتیش کاروں، وکیلوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے۔ اور ائی پی آر (IPR)مقدمات کی تیز ترین پیروی کےلئے مخصوص عدالتوں کے قیام کی تجویز پراتفاق کیااور جرائم سے لڑنے کے لیے باہمی تعاون کااتفاق،آئی پی او (IPO)پاکستان کی مدد سے شامل تھا۔ایف آئی کی اعلٰی پیمانے پر آئی پی آر کا اجلاس منعقد کرنے پر تعریف کی گئی اور اس کے علاوہ اس قسم کے اجلاس کو سیمینار یا کانفرنس کی صورت میں آگاہی مہمات کے طور پر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
  4. کام کرنے والے ورکنگ گروپ /گروہ پالیسی بنانے کےلئے آگاہی مہمات، ڈیٹا بیس کے اشتراق کے لیے اور بڑے پیمانے پر آئی پی آر (IPR)کی خلاف ورزی کرنے والی بڑی مچھلیوں پر مشتمل رپورٹ اگلے اجلاس میں پیش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز میں 2جولائی 2009ء کو منعقدہ اطلاقی آئی پی آر نفاذ کی مشاورتی کمیٹی کے افتتاحی اجلاس کی روئیداد

ایف آئی اے (FIA)ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ایف آئی اے (FIA)کی اطلاقی مشاورتی کمیٹی 22 جولائی2009ء کو صبح 11 بجے منعقد ہوئی۔اس اجلاس کی سربراہی جناب عرفان ندیم، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے (FIA)/معاشی جرائم ونگ نے کی۔ شرکاء کی فہرست اور اجلاس کا مقصد نیچے بیان کیا گیا ہے۔

افتتاح میں ڈائریکٹر جرنل ایف آئی اے طارق کھوسہ کی طرف سے خوش آمدیدی پیغام پہنچایا جو کہ کسی اور دفتری مصروفیت کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہ کر سکےتھے۔ پھر انہوں نے بھی تمام شرکاء کو گرم جوشی سے خوش آمدید کہا ، خاص طور پر مشاورتی کمیٹی کے اعزازی ممبران کو اور پوری دنیا میں آئی پی آر (IPR)کی اہمیت اور ممکنہ مشکلات خاص طور پر پاکستان میں کے بارے میں آگاہ کیا۔ ایف آئی اے (FIA)کو مشاورتی کمیٹی کی قابل قدر رہنمائی/تجاویز کی بے حد ضڑورت ہے تاکہ آئی پی آر (IPR)خلاف ورزیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید اضافہ کیا۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے (FIA)کی جانب سے پریزینٹیشن

ڈائریکٹر آئی پی آر (IPR)شاہد ندیم بلوچ نے ایف آئی اے (FIA)کی کاردگرگی پر ایک پریزینٹیشن دی۔

سلسلہ نمبرڈائریکٹر کی طرف سے وضاحتشرکاء کے مشاہدات
1تعارفآئی پی آر (IPR)کا پس منظر اور اہمیت کی بہت عمدہ تعریف کی گئی۔
2حکومتی اقداماتIPO.PKکی تخلیق اور حقوق ملکیت آرڈینینس کو شامل کرنے اور ایف آئی اے (FIA)کو تفویض پہلا قدم ہے۔ٹریڈ مارٹ ایکٹ اور دوسرے IPRقوانین کو نظر ثانی اور نفاذ کی ضرورت ہے۔
3پاکستان میں صورتحالصورت حال حوصلہ افزاء ہے ، مگر ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
4پاکستان میں IPRقوانینتجارتی نشان(ٹریڈ مارک ایکٹ) قانون کو ایک اور دوسرے IPRقوانین کو نظر ثانی اور نفاذ کی ضرورت ہے۔
5کامیابیاںایف آئی اے (FIA)کی کاردگردگی آئی پی آر(IPR)خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے لئے حوصلہ افزائ ہیں۔
6اہم مقدماتسی ڈی/سافٹ وئیر ضبظ اور جعلی مصنوعات کی چھپائی کرنے میں ایف آئی اے کا مثالی کردار۔
7مقدمات میں پیش رفتتفتیش کاروں اور وکیلوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت بہتر طور پر جرم ثابت کرنے کے لئے۔
8آئی پی آر (IPR)یونٹ کی عمل داریکافی مضبوطی /لاجسٹکس کے ساتھ آئی پی آر (IPR)فیلڈ یونٹ قابل عمل ہوچکا ہے۔
9آگے کے منصوبہ جاتآئی پی آر (IPR)اطلاق کو مضبوط بنانا کتاب/سافٹ وئیر /فلم اور موسیقی کی جعل سازی کے لئے اور ادویات سازی کے حقوق ملاک کی خلاف ورزکی کےلئے
10مشورہ / تجویزاتتجارتی نشان(ٹریڈ مارک ایکٹ) قانون اورحق ملکیت قانون کا اطلاق اور خصوصی عدالتوں کے نام سے اور تفتیش کاروں اور وکیلوں اور ججوں کی صلاحیتوں میں اضافے سے ایف آئی اے (FIA)کو با اختیار بنانا تجاویز میں شامل تھا۔ سفارش کردہ

شرکاء کی طرف سے پریزینٹیشن کی بہت تعریف کی گئی۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے نفاذ آئی پی آر (IPR)کے مسائل پر مشاورتی کمیٹی کے ممبران سے اُن کی آراء اور تجاویز پر بات چیت کی۔ ذیل میں ممبران کی بحث/تجاویز بیان کی گئی ہے۔

سلسلہ نمبرنامممبرز کی آراء
1حسن عرفان ایڈوکیٹ، سپریم کورٹ ، معاون: جناب معین قمرسکولوں میں فروخت، تجارتی نشان قانون کا اطلاق اور عدالتوں کا کردار جیسے مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ جعلی ادویات زندگی اور صحت کو متاثر کرتی ہیں۔
عدالتوں اور ماتحت عدالتوں کا قیام بہتر نتائج کے لئے بہت ضروری ہے۔
2امینہ سید، OBEانہوں نے آگاہ کیا کہ لوگوں کی سوچ کو بدلنے اور آئی پی آر (IPR)خلاف ورزیوں کے بارے میں ان کی ترجیحات کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھانے میں کہ جعل سازی سے کتب چھاپنا ایک بہت اہم مسئلہ ہے اور اسے ختم کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔
ادویات /کھانے پینے کی اشیاء پر جعلی لیبل لگانے کی حد تک یہ بڑھ چکا ہے۔ پاکستان بہت زیادہ استعمال ہوتا رہا ہے، ایرانی جعلی کتب ، جو کہ بڑے پیمانے پر پاکستان، افغانستان اور انڈیا میں فروخت ہوتی ہیں۔ جبکہ ایران ، متعلقہ نیا جماعت سے دستخط شدہ نہیں ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایسے تھوک فروش جو جعلی کتب رکھتے ہیں۔ ان کی گرفتاری کی جائے اور وعدہ کیا کہ وہ ان تمام گروہوں کی فہرست مہیا کریں گی جو اس بڑے پیمانے پر اس تجارت میں شامل ہیں۔ پیکیجنگ والے بھی زیر نظر رکھنے چاہیے، جو حق ملکیت قانون کی خلاف ورزی بھی ایف آئی اے (FIA)کی زیر نظر ہیں۔ اس کے علاوہ آئی پی آر (IPR)قوانین میں انتشار پیدا کرنے والے عناصر کےلئے کوئی بھی کم از کم سزا نہیں ہے۔ انہوں نے اگاہی مہم چلانے کےلئے اپنی مدد کا یقین دلایا۔
3کمال احمد، تعاون کار، سلمان صدیقیزمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اطلاق کو صرف کتابوں اور پیسے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ سافٹ وئیر ، کھانے پینے کی اشیائ ادویات کی جعل سازی کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے۔
ایف آئی اے (FIA)کو موصول شدہ آئی پی آر (IPR)خلاف ورزیوں کے مقدمات کی تعداد اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ مخصوص عدالتوں کا قیام کرنا ہے۔
جعل سازی کی پہچان کو متحد اور بہت منظم فہم کی ضرورت ہے۔ آئی پی آر (IPR)خلاف ورزیاں پاکستان میں بہت غور طلب ہیں جیسے کہ ایک سی ڈی (CD)آتی ہیں اور بڑے پیمانے پر اس کی جعلی کاپیاں فروخت کےلئے آجاتی ہیں۔ شکایات کرنے والے کی ضرورت
4ق۔ م۔ شاہد، پاکستان ٹو بیکو کمپنیآئی پی آر (IPR) پر عوامی آگاہی میڈیا کے ذریعے منظم کی جاسکتی ہے اور تمام وزیروں کو اس ذمہ داری کو باٹنا چاہیے۔ خاص طور پر وازرتِ تعلیم کو اس
آئی پی آر (IPR)آگاہی پر ایک صفحہ ، ایک کتاب میں سکول/کالج سطح پر اضافہ کرنا چاہیے۔ چھپائی اور نشانات جیسے جرائم بھی متعلقہ ہیں۔ جرم کے نقطہ نظر سے آئی پی آر (IPR)خلاف ورزیوں کو بہت کم اہمیت دی جا رہی ہے۔
5اکراام المجید سہگل سیکیورٹی اینڈ مینیجمنٹ سروسزسٹیک ہولڈرز کی مدد سے باہمی کوشیش کی جا سکتی ہیں۔ متعلقہ کمپنیاں موثر خود کار اور قابل عمل اقدامات تشکیل دے سکتی ہیں۔ سافٹ وئیر کے لوگ قومی ڈیٹا بیس بنا سکتے ہیں جو چھاپے ہوں وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں یہ خوبی تشہیر ہونے چاہیے۔ آگاہی مہم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں جاری رہے گی جس میں ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز شامل ہیں۔
6محمد صدیق کلیکٹر (قانونی)اُنہوں نے زور دیا کہ تفتیش کاروں اور وکیلوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت دینے کی ضرورت ہے۔ آئی پی او (IPO)پاکستان اور WIPO
IPO.PKکی ذمہ داری ہے کہ وہ اطلاقی ایجنسیوں کی مالی تربیت/ اطلاقی ضروریات موثر تعاون کریں اورآگاہی مہم کو منظم کرنے میں بھی تعاون کرے ۔اُنہوں نے آئی پی آر (IPR)اطلاق پر کسٹم کے کردار پر پریزینٹیشن بھی دی۔
7سید خالد محمود بخاری، ڈائریکٹر جنرل، IPO-Pakistanاطلاق آئی پی آر (IPR)پر اعلیٰ درجے کے اجلاس پر اظہار تشکر کیا۔ آئی پی او (IPO)پہلے ہی اس پر بہت کچھ کر چکی ہے۔ اُنہوں نے اضافہ کیا۔
صرف آگاہی ایک مخصوص مسئلہ نہیں ۔ سٹیک ہولڈر کی جانب سے ایک متحدہ کوشش پاکستان میں آئی پی آر (IPR)اطلاق پر حکومت کو ترجیح لینے پر مجبور نہیں کر سکتی ہے۔
میڈیا چینلز کو کم از مہینے میں ایک بار آئی پی آر (IPR)اس پر ایک ٹاک شو کرنا چاہے۔
ایف آئی اے (FIA)کو اعلیٰ کاردگرگی جاری رکھنی چاہیے اور ترقی اور فلواپ کے ساتھ بہترین مہارت پر مبنی ایسی کانفرنس کراتے رہنا چاہے۔ ہم تقریر اور ڈیٹا بیس تعلیمی اداروں میں ترتیب دے سکتے ہیں۔ اُنہوں نے آئی پی او (IPO)کی پوری مدد کا یقین دلایا آگاہی مہم سمیت دوسرے متعلقہ مسائل پر۔

شاہد ندیم بلوچ ڈائریکٹر ایف آئی اے (FIA)کو منظم کرنے کے خیال کو جدت دیتے ہوئے کہا کہ آئی پی آر (IPR)ہفتہ منایا جائے۔ اکتوبر/نومبر 2009ء میں IPO-PKکے تعاون سے اور یہ ایک موثر آگاہی مہم کا حصہ ہوگا ۔ اس ہفتے کے دوران آرٹیکل ، میجر اور ٹی وہ ٹاک شوز کے ذریعے پرنٹ/الیکٹرانک میڈیا شمولیت کر سکتا ہے۔ تمام شرکاء نے اس خیال کو گرمجوشی سے خوش آمدید کیا۔ IPO-DGپاکستان نے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔ ڈائریکٹر آئی پی آر (IPR)نے مزید کہا کہ جعلی کتب کا ذریعہ اور راستہ کا ہم خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرنے اور جرح کرنے میں ایف آئی اے (FIA)ہر زون (Zone)میں قیام IPRذہانت یونٹ کی راہ پر گامزن ہے۔

جعلی کتب بنانے/بیچنے والوں کو تمام سٹیک ہولڈرز کی مدد سے پہچانا جائے گا کیونکہ وہ بھی برابر کی ذمہ داری رکھتے ہیں۔

محمد اعظم خان، ڈائریکٹر لاء نے آئی پی آر (IPR)مقدمات پر جرح کے وقت تفتیش کاروں اور وکیلوں کو درپیش مسائل سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ ملزم بہت مہنگے اور بہت بڑے وکلاء کے ساتھ ملاتے ہیں، جبکہ ایف آئی اے (FIA)وکیل صرف محدود علاتوں تک ہیں۔ بہت سارے مقدمات میں ہائی کورٹ تفتیش کاروں/ وکیلوں کو کاروائی سے روک دیتی ہے اور مسئلہ حل نہیں ہوپاتا کیونکہ مخصوص وکیل بہت زیادہ فیس مانگتے ہیںَ ہمیں جانے مانے ماہر وکیل چاہیے تاکہ وہ جرح کرنے والے وکیلوں/تفتیش کاروں کا عدالتوں میں تعاون کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی نقطہ اُٹھایا کہ جعلی پرنٹنگ اور لیبل بالترتیب حق ملکیت قانون اور تجارتی نشان قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ہم ایف آئی اے (FIA)صرف انہی مقدمات کی سماعت کر سکتی ہے جو اس کے دائرہ میں آتے ہیں۔

اطلاق آئی پی آر (IPR)قوانین کو مزید موثر اور قابل سزا بنانے کےلئے اسے متاثرہ اشخاص کی طرف سے تجویز سے شروع کرنا چاہیے۔ جرائم سے لڑنے کےلئے ایف آئی اے (FIA)کی تعاون میں سٹیک ہولڈرز کو سزا کی جرح اور متعلقہ قوانین کا امتحان دینا چاہیے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ شکایت کنندہ کی ضرورت توجہ طلب آئی پی آر (IPR)مقدمات جو کہ ہائی کورٹ کراچی میں زیر سماعت ہیں۔

حسن عرفان خان نے ڈائریکٹر لائ سے درخواست کی کہ ایسے مقدمات کی فہرست فراہم کر دی جائے اور شکایت کنندہ ضروریات کے مسئلے پر ایف آئی اے (FIA)کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

ڈائریکٹر آئی پی آر (IPR)نے تجویز دی کہ ایک مکمل اور جامع قانون آئی پی آر (IPR)بنایا جائے جس میں کم از کم ایک سزا درج ہو۔ اُنہوں نے متعلقہ متعلقہ اگلے مشاورتی اجلاس میں اپنی پریزینٹیشن دیں گے۔

ڈائریکٹر جرائم، ایف آئی اے (FIA)، ہیڈ کوارٹر ،اخلاقی اقدامات کی کم وقتی اور زیادہ وقتی اقدامات وضع کرنے کی تجویز دی۔ COS to DGنے اچھی منصوبہ بندی کے تحت اگاہی مہم چلانے کے خیال کو دستخط کئے۔ اے ڈی جی امیگریشن (AD Immigration)نے وکیلوں /تفتیش کاروں کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے اور منڈی، خلاف ورزی کرنے والے اور متاثرہ اشخاص کے بارے میں جاننے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اجلاس کے اختتام پر 07 نکاتی کاروائی نامہ پیش کیا گیا۔

سلسلہ نمبرکاروائی نامہفیصلہ
1آئی پی آر ، (IPR)جرائم کو ہینڈل کرنے کی پالیسی اور راستہجرم کے نقطہ نگاہ سے بڑی ترجیح دی جا سکتی ہے اور باہمی تعاون درکار ہے۔
2ائی پی آر (IPR)جرائم کے ایف آئی اے (FIA)تفتیش کاروں کی تربیتی اور صلاحیتوں کی تعمیرتمام سٹیک ہولڈز اور IPO-PKبڑے درجے پر ایف آئی اے کی ہر ممکن مدد کریں گے۔
3تمام پہلوں کی شناخت اور آئی پی آر (IPR)خلاف ورزیوں کو ترجیح دیناڈیٹا بیس کی شئیرنگ اور بہترین خدمات کی شئرنگ پر اتفاق
4پائریسی کے متعلق انفارمیشن، تجارتی مقدمات میں ملوث لوگوں کے مقدمات/انکوائری کے متعلق ڈیٹآ بیس کی تخلیقتمام شراکت دار اپنی ذمہ داریاں تقسیم کرتے ہوئے قوی ڈیٹا بیس بنانے کے لئے مل کر کام کریں گے۔
5بڑی مچھلیاں جو بڑے پیمانے پر پائریسی اور پیدواوار میں ملوث ہیں۔تیزی سے اس پر کام کرنے کے لئے متفق ہوئے۔ محترمہ امینہ سید نے پائیرٹیڈ کتابوں اور بنانے والوں کی لسٹ پیش کی ۔
6اگاہی مہمتمام متعلقہ لوگ اس کی اہمیت اور باہمی تعاون کے لئے متفق ہوئے۔
7خواتین کی دستی/ طریقہ کار کےلئے ورکنگ گروپ کی تشکیلمتفق

آخر میں 4 ورکنگ گروپ کو تشکیل دیا گیا جو کہ اگلے اجلاس میں اپنی تجاویز/رپورٹ کے لئے اپنے اپنے سبجیکٹ کے متعلق دیں گے۔

سلسلہ نمبرعنوانورکنگ گروپ
1پالیسی بنانا/آئی پی آر قوانین میں ترمیم کی نثر ثانیجناب حسن افتخار خان، جن کی معاونت کریں گے۔ ڈی جی آئی پی آر اور ڈائریکٹر لائ ، ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر
2آگاہی مہممحترمہ امینہ سید ،جن کو تعاون کریں گی، ڈی جی آئی پی آر، اور ڈائریکٹر آئی پی آر، ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر
3ڈیٹا بیس اور بڑی مچھلیوں کی شناخت کی شئیرنگ کے لئے جناب کمال احمداور جناب اکرم المجید سہگل
4آئی پی آر کے دستی /طریقہ کار اور قوانین کی ایف آئی اے کےلئے نفاذ کے ڈرافٹجناب محمد صدیق اور ان کی معاونت کریں گے، ڈائریکٹر ایف آئی اے، ہیڈ کوارٹر

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، عرفان ندیم نے تمام شرکائ کار کو اس اجلاس میں موثر گفتگو اور فیصلوں کےلئے سراہا۔ اُنہوں نے کہا کہ آئی پی آر (IPR)کے قوانین کو مزید موثر اور زودمند بنا کر حکومت پاکستان بین الاقوامی طور پر پنا تشخص مزید بہتر بنا سکتی ہے۔

اجلاس 2:45پر چئیر مین کے شکریہ کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ۔

  • مورخہ 10 مئ 2017

    چار انسانی اسمگلر گرفتار    مزید پڑھیں

  • مورخہ 09 مئ 2017

    بلیک لسٹ ہونے پرمسافرزیر حراست    مزید پڑھیں

  • مورخہ 02 مئ 2017

    بغیر ویزہ پاکستان آنے والاچینی باشندہ ڈیپورٹ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 01 مئ 2017

    ایف آۂئ اے نے تین اشتہاری انسانی سمگلرگرفتارکرلۓچارچل بسے    مزید پڑھیں

  • مورخہ 12 اپریل 2017

    یونان سے29 پاکستانی ڈیپورٹ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 11 اپریل 2017

    انسانی سمگلر گرفتار    مزید پڑھیں

  • مورخہ 06 اپریل 2017

    زیتون کے پودے لگانے کے سکینڈل کے ملزم کا ریمانڈ    مزید پڑھیں

لیگل

وفاقی تحقیقاتی ادارہ © تمام حقوق محفوظ ہیں۔

DESIGNED BY: NR3C

Privacy Policy

Site Map

رہنمائی اور آرا

ادارے کے بارے میں عمومی سوالات

پتہ : ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز، جی 9/4، اسلام آباد پاکستان۔

ہیلپ لائن:786-345-111

ای میل: complaints@fia.gov.pk