Slideshow Image 1
Slideshow Image 2
Slideshow Image 3
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4

انسدادغیر قانونی انسانی نقل و حمل

اینٹی ٹریفیکنگ یونٹ کے متعلق

(غیر قانونی) انسانی نقل و حمل کی تعریف (غیر قانونی )انسانی نقل و حمل کے بچاو اور کنٹرول آرڈینینس مجریہ 2002میں اس طرح کی گئی ہے۔

(غیر قانونی) انسانی نقل و حمل کا مطلب کسی بھی آدمی کا حصول، ایسا ممکن بنانا، فروخت، خریداری، بھرتی، قید ، منصوبہ بندی یا وصولی ، اس کی صریح یا اخذ کردہ مرضی سے، لالچ، اغوا، گمشدگی، یا رقم یا فائدہ دینا یا لینا یا پاکستان کے اندر لانے یا پاکستان سے باہر لے جانے کےلئے کسی بھی ذریعے سے قانون میں درج کسی بھی مقصد کےلئے ، ایسے آدمی کی نقل و حمل کےلئے حصہ داری کا ارتکاب کرنا ہے۔ (پی اینڈ سی ایچ ٹی او)

(غیر قانونی) انسانی نقل و حمل کے بچائو اور کنٹرول کا آرڈینینس مجریہ 2002ء

  • P&CHTO 2002کے اجراء سے پہلے کوئی بھی ایسا خاص قانون نہیں تھا جو (غیر قانونی) انسانی نقل و حمل کے جرائم اور مجرموں کے ساتھ نپٹ سکے۔
  • چنانچہ یہ ضروری سمجھا گیا کہ(غیر قانونی) انسانی نقل و حمل سے متعلق جرائم سے بچاو کے موئثر اقدامات اُٹھائے جائیں اور اس کے شکار افراد کو محفوظ کیا جائے اور ان کی مدد کی جائے۔
  • (غیر قانونی) انسانی نقل و حمل کے بچائو اور کنٹرول کے آرڈینینس کا اجراء اکتوبر 2002 میں قومی اور بین الاقوامی تقاضوں کے پیش نظر کیا گیا۔

نمایاں خصوصیات

  • یہ (غیر قانونی) انسانی نقل و حمل کے جرم اور اس کی تمام شکلوں اور زاویوں کی تعریف کرتا ہے۔ (سیکشن 2)
  • یہ این جی اوز کے تعاون سے (غیر قانونی) نقل و حمل کے شکار افراد کی حفاظت اور بھلائی کا طریقہ کار مہیا کرتا ہے( قاعدہ 4)
  • اس آرڈینینس کے ذیل میں آنے والے تمام جرائم قابلِ دست اندازی پولیس، ناقابلِ ضمانت اور ناقابل مرکب (سیکشن 8)
  • یہ نہ صرف مظلوم افراد کی داد رسی کرتا ہے (سیکشن 6) بلکہ مجرموں، عادی مجرموں اور منظم گروہوں کو سخت سزا دیتا ہے جو زیادہ سے زیادہ چودہ 14 سال تک ہے۔ (سیکشن 3)

قاعدے

حکومت پاکستان نے P&CHTO 2004 کے تحت کئی قاعدے بھی بنائے جو درج ذیل مقاصد کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رہنما اصول بنا دیتا ہے۔

  • کے تحت تحقیقات اور سزا P&CHTO 2004
  • شکار افراد کا تحفظ اور بھلائی
  • مظلوم افراد کو شیلٹر ہوم بھیجنا
  • شکار افراد کے تحفظ و آگاہی اور بحالی کے لئے این جی او سے تعلق
  • متاثرہ افراد کی اپنے ملکوں میں واپسی

اینٹی ٹریفیکنگ یونٹ کا قیام۔

انسانی اسمگلنگ قومی و بین الاقوامی سطح پر ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ اس لئے حکومت اس پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔
وزارت داخلہ میں ایک اسٹئیرنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے ، جو انسانی اسمگلنگ کے خلاف کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لے گی۔
جوائنٹ سیکریٹری (سیکیورٹی) ، وزارتِ داخلہ کو رابطہ اور معلومات کے تبادلہ کے لئے فوکل پوائنٹ بنایا گیا ہے۔
بڑی ایجنسی ہونے کی وجہ سے ایف آئی اے نے ایک اسپیشل یونٹ قائم کیا ہے۔ جس کا نام اینٹی ٹریفیکنگ یونٹ ہے، جو انسانی اسمگلنگ سے متعلقہ تمام امور پر موثر کاروائی کرے گا۔
پورے ملک میں انسانی اسمگلنگ کا احاطہ کرنے کے لئے اے۔ٹی۔یو کے ذیلی سیل، ایف آئی اے کے زونل دفاتر، کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور، اور کوئٹہ میں قائم ہیں۔

اینٹی ٹریفکنگ یونٹ کے کام

  • انسانی اسمگلنگ کے شکار افراد کا تحفظ اور بچائو
  • مقدمات کی تفتیش اور مجرموں کو سزا دلوانا
  • انسانی اسمگلرز کی فہرست مرتب کرنا
  • امریکی سفارت خانہ (این اے ایس) ،این جی او اور صوبائی پولیس سے رابطہ
  • متاثرہ افراد کو شیلٹر ہوم، اور واپس اپنے وطن بھجوانے کا طریقہ کار وضع کرنا

کامیابیاں

  • 2003ء تا فروری 2005ء انسانی اسمگلروں کے خلاف 747 انکوائری اور 850 مقدمات کا ایف آئی اے میں اندراج
  • اس عمل کے دروان انسانی اسمگلنگ میں ملوث 642 مجرموں کی گرفتاری
  • تفتیش مکمل ہونے کے بعد 316 مقدمات عدالت کو بھجوائے گئے۔
  • 74 مقدمات میں سزا دی گئی ہے جبکہ باقی زیر سماعت ہیں۔
  • 2P&CHTO 200 کے تحت کامیابیوں کی تعداد اور کوالٹی بہتر کرنے کے لئے موثر نگرانی کا عمل

اونٹ دوڑ کے سوار

  • بہاولپور، رحیم یار خان، ڈیرہ اسماعیل خان، حیدر آباد اور سکھر سے تعلق رکھنے والے انتہائی غریب اور چھوٹے بچوں کو والدین کی مرضی سے متحدہ عرب امارات اسمگل کیا جاتا ہے۔
  • یہ انسانی اسمگلنگ کی بدترین شکل ہے۔ جس میں انہیں اونٹ دوڑ میں سوار بنایا جاتا ہے۔
  • تمام قانونی راستوں پر جعلی دستاویزات کے ذریعے ان کے باہر جانے کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔
  • پاک ایران سرحد اور ساحلی علاقوں کے ذریعے ان کی نقل و حرکت بھی روکی جا سکتی ہے، جب مجوزہ امیگریشن چیک پوسٹ اور پاسپورٹ سرکل کام شروع کریں گے۔
  • ان کے اسمگلرز کے خلاف، کوئٹہ، لاہور اور کراچی ایف آئی اے میں مقدمات درج ہیں۔
  • اماراتی حکومت نے بھی ایک قانون منظور کیا ہے، جس میں پندرہ سال سے کم عمر اور 45 کلوگرام سے کم وزن والے بچے کی اونٹ سواری ممنوع قرار دے دی گئ ہے۔ اس سے پاکستان سے جانے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

اہداف

  • ان مجرموں کو ہدف بنانا جو ضرورت مندوں کا استحصال کرتے ہیں اور انسانی اسمگلنگ کا خاتمہ
  • جہاں پر ایف آئی اے کی چیک پوسٹ کام کر رہی ہیں ، وہاں غیر قانونی امیگریشن کا خاتمہ۔
  • اضافی امیگریشن چیک پوسٹ اور سرکل کا قیام تاکہ پاک۔ ایران سرحد اور ساحلی پٹی سے غیر قانونی امیگریشن کا خاتمہ ہو سکے۔ جہاں پر اس وقت امیگریشن کا عملہ تعینات نہیں۔
  • اونٹ دوڑ سوار بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث مجرموں کے خلاف موثر مہم کا آغاز تاکہ ان کی غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیاں ختم کی جائیں۔
  • P&CHTO2002کے موثر نفاذ کے ذریعے انسانی اسمگلرز کی گرفتاری اور سزا دلوا کر پاکستان کو درجہ دوم واچ لسٹ سے خارج کروانا۔ُ

آگاہی کی بڑی مہم۔

انسانی اسمگلنگ کے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی مضمرات ہوتے ہیں۔ موثر کنٹرول کےلئے مضبوط آگاہی اور تعاون کی ہر سطح پر ضرورت ہے۔ درج ذیل اقدامات کئے گئے ہیں:۔

  • علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر معلومات کے تبادلہ کےلیےایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تعاون بڑھایا گیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر مصروف عمل منظم گروہوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جا رہی ہے ۔
  • میٹنگ، کانفرنسوں اور سیمینار کے ذریعے مختلف حکومتوں ، ایجنسیوں اور اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون میں اضافہ کیا گیا ہے۔
  • عوام الناس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے آگاہی پیدا کی جا رہی ہے۔
  • تمام بڑے مقدمات/ گرفتاریوں کی پریس کوریج ، جس سے مجرموں کو سخت پیغام ملتا ہے اور لوگوں میں شعور پیدا ہوتا ہے۔

اونٹ دوڑ کے سوار

(غیر قانونی) انسانی نقل و حمل کے بچائو اور کنٹرول آرڈینینس مجریہ P&CHTO2002کے مطابق کسی بھی آدمی کا حصول، ایسا ممکن بنانا، فروخت ، خریداری، بھرتی، قید، منصوبہ بندی یا وصولی، اس کی صریح یا اخذ کردہ مرضی سے ، لالچ، اغوا ، گمشدگی ، یا رقم سے فائدہ دینا یا لینا، یا پاکستان کے اندر لانے یا باہر لے جانے کے لئے کسی بھی ذریعے سے درج ذیل مقاصد کے لئے انسانی اسمگلنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔

  • کوئی فائدہ اُٹھانا
  • استحصالی خاطر مدارت
  • غلامی
  • جبری مشقت
  • گود لینا
  • کسی جرم کی منصوبہ بندی کرنا

بچوں کی اسمگلنگ برائے اونٹ دوڑ۔

اونٹ دوڑ بدو قبائل کا روائتی صحرائی کھیل ہے۔ آج کل صحرائی دوڑ کے قاعدے جدید دوڑ کے میدان کی وجہ سے تبدیل کر دئیے گئے ہیںَ اس کھیل کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کم عمر بچوں کو اونٹ دوڑ میں بطور سوار استعمال کیا جاتا ہے۔ یونیسف اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ بچے اونٹ کی پشت پر باندھ دئیے جاتے ہیں تاکہ اونٹ تیز دوڑے جس کی وجہ سے یہ بچے اکثر مر جاتے ہیں یا شدید زخمی ہو جاتے ہیں۔ ان بچوں کی عمریں پانچ(5) سے بارہ(12) سال کے درمیان ہوتی ہیں۔

ان معصوم اونٹ سوار بچوں کو ایشیاء کے مختلف ملکوں سے انسانی اسمگلر متحدہ عرب امارات پہنچاتے ہیں، جن کو یا تو یہ اسمگلر اغوا کرتے ہیں یا ان کے غریب والدین رقم کے عوض دیتے ہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان جیسے ممالک ان اسمگلرز کا ہدف رہے ہیں۔ پاکستان کی حالت کافی مخدوش ہے کیونکہ ماضی قریب میں سینکڑوں کی تعداد میں ان بچوں کو اونٹ دوڑ سواری کے لئے متحدہ عرب امارات اسمگل کیا گیا ۔حاصل کردہ معلومات کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ زیادہ تر بچے ضلع رحیم یار خان اور بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں اضلاع صحرا پر مشتمل ہیں۔

وجوہات

  • دونوں ممالک کی جغرافیائی و موسمیاتی مماثلت (یو اے ای، پاکستان)، خاص طور پر رحیم یار خان، اور بہاولپور
  • ان جگہوں کے بچے اونٹ کی سواری سے مانوس ہیں۔
  • غربت
  • بیروزگاری اور مواقع کی قلت
  • یو اے ای کے باشندوں کی ان اضلاع کے باشندوں سے واقفیت
  • اونٹ دوڑ کے نتائج سے لاعلمی

طریقہ واردات

بچوں کی اسمگلنگ کی طریقہ واردات کچھ اس طرح ہے: ۔

  • زیادہ تر بچے ایجنٹوں کے ذریعے جعلی والدین کے ذریعے اسمگل کئے گئے۔ اس سلسلے میں وہ سب سے پہلے نکاح نامہ، پیدائش کا سرٹیفکیٹ،"ب" فارم تیار کرتے ہیں اور جعلی والدہ کے پاسپورٹ سے تصدیق کرواتے ہیں۔
  • بعض اوقات میں حقیقی والدین نے اپنے بچے اسمگل کروائے۔ ایجنٹ صرف کاغذات اور ویزا کے سلسلے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔
  • حقیقی والدین ایران کےلئے زیارت کا ویزہ بنواتے ہیں اور کوئٹہ کے راستے بچوں کو ایران منتقل کرتے ہیں، جہاں سے وہ بالآخر یو اے ای پہنچ جاتے ہیں۔

اونٹ سواروں کی موجودہ حالت۔

یو اے ای کی حکومت نے 45 کلو گرام وزن اور 14 سال سے کم عمر کے بچوں کی اونٹ سواری ممنوع قرار دی ہے۔ سال 2005ء کے دوران، 185 اونٹ سواروں کو یو اے ای سے ملک بدر کیا گیا ہے۔ ان میں سے 101 بچوں کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیا جبکہ 84 ابھی تک چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر بیورو، حکومت پنجاب، لاہور کے پاس ہیں۔ اس وقت تک سال 2005 کے دوران ، 69 کیسز پاسپورٹ سرکل لاہور میں درج ہوئے ہیں ان مقدمات کے اندر 64 والد اور 15 والدہ کو بطور سہولت کار حراست میں لیا گیا۔ تفتیش کے دوران، 3 ایجنٹ اور 3 ذیلی ایجنٹ گرفتار کئے گئے ہیں اور ابھی حوالات میں ہیںَ معلومات کے مطابق دو ایجنٹ چل بسے ہیں جبکہ تمام سہولت کار ضمانت پر ہیں۔ چند نامزد ایجنٹ ابھی بھی دندنارہے ہیں۔ مقدمات زیر تفتیش ہیں اور اب تک 254 مقدمات کے چالان عدالت میں داخل کر لئے گئے ہیںَ کسی بھی ملزم کو سزا دی گئے ہے نہ ہی بری کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات

  • انسانی اسمگلنگ کی تفتیش، بطور خاص اونٹ سوار، کےلیے اینٹی ٹریفیکنگ یونٹ کا قیام
  • انسانی اسمگلنگ کے کوائف کا اندراج اور اپ ڈیٹ
  • انسانی اسمگلرز کے خلاف قائم مقدمات کی تیز رفتار پیروی

مسائل

  • سہولت کار/ والدین ایجنٹوں کے مکمل کوائف سے آگاہ نہیں کرتے۔
  • اسٹاف اور گاڑیوں کی کمی
  • حال ہی میں اس مکروہ دھندے میں ملوث بدنام زمانہ ایجنٹ کی گرفتاری کے لیے اسپیشل ٹیم مقرر کی گئ ہے۔ اس ٹیم نے ضلع رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان اور ملتان کے اضلاع کے مختلف مقامات کا دورہ کیا تاکہ مجرموں کو گرفتار کیا جائے۔ لیکن بد قسمتی سے سہولت کاروں کی جانب سےفراہم کردہ ایجنٹوں کے نامکمل یا جعلی پتوں کی وجہ سے مطلوبہ نتائج نہیں حاصل کئے جا سکے۔

حکومت پنجاب اور یونیسف کا کردار

یونیسف اور حکومت پنجاب او پی ایف کے تعاون سے یو اے ای سے پاکستان واپس آنے والے اونٹ سواروں کی بحالی کے لئے مدد ا ور تعاون کر رہے ہیں۔حکومت پنجاب نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ جہاں ان بچوں کو رکھا جاتا ہے۔ ان بچوں کو مجاز عدالت کے حکم پر قانون کے مطابق ان کے والدین کے حوالے کیا جاتا ہے۔

مزید اقدامات

رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور ملتان اضلاع پر مرکوز مخبری اور جاسوسی کا نظام پھیلا دیا گیا ہے۔ یہ ان ایجنٹوں کو بے نقاب کرنے میں مدد دے گا، جن کے پتے نامکمل ہیں اور والدین ان کے کوائف دینے میں ہچکچاتے ہیں۔

امیگریشن چیک پوسٹوں پر تمام افسران/اہلکاروں کو تمام مفلوک الحال خواتین پر نظر رکھنے کےلئے آگاہ کر دیا ہے، جو بچوں کے ہمراہ یو اے ای کی طرف سے عازم سفر ہوں۔

پاک ۔ایران سرحد کے ذریعے انسانی اسمگلنگ روکنے پر خاص زور دیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کےلئے ایجنسیوں مثلا ایف سی، کوسٹ گارڈ، لیویز اور ضلعی پولیس کے درمیان قریبی اشتراک کار قائم ہے، جو اس مقصد کے لئے ڈائریکٹر جنرل، ایف آئی اے کی سربراہی میں قائم کردہ ٹاسک فورس کے چارٹر میں درج ہے۔

سال2010
POs
2011
POs
2010
CAs
2011
CAs
گزشتہ سال کا اندراج3153294325472977
نیا اندراج3747871263875
ٹوٹل3527373038103852
گرفتار522503200178
حذف شدہ 62216332
زیر التواء2943320629773674

بالی پروسس ورکشاپ 1 سے 3 اپریل، منیلا ،فلپائن

اس ورکشاپ میں 24بالی پراسس اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائیندہ 53 وفود نےشرکت کی۔ General Enrique B Galang Jrڈپٹی کمشنر برائے فلپائن بیورو آف امیگریشن نے افتتاح کیا۔ اپنی افتتاحی خطاب میں جنرل گالنگ نے انسانی اسمگلنگ ، ٹریفکنگ اور دیگر بین الاقوامی جرائم کے خلاف لڑائی میں امیگریشن ایجنسیوں کی اہمیت پر زور دیا۔ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے ماحول میں امیگریشن ایجینسیوں کے لیے بہت ضروری ہے کہ اپنے ملک کے پہریدار بن کر دستاویزات کے مضبوط معائنہ کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔ جنرل گالنگ نے وفود کو آپس میں اشتراک عمل قائم کرنے پر زور دیا تاکہ علاقائی سطح پر تبادلہ معلومات کو منظم کیا جا سکے۔

ورکشاپ کے مقاصد

  • امیگریشن کے اندر مختلف سطح پر دستاویزات کے معائنہ کی مطلوبہ صلاحیت اور اس صلاحیت کو قائم رکھنے اور اضافہ کرنے کے لئے مختلف درجات کی تربیت کا بہتر ادراک۔
  • مستقلبل میں مناسب عالمی امداد کے حصول کے لئے تنظیموں کو تیار کرنے کی غرض سے دستاویزات کی معائنہ کاری کی ساخت ، تنظیم اور تربیت سے واقفیت۔
  • اداروں کے اندر دستاویزی معائنہ کاری کے اشارے کس طرح استعمال ہوتے ہیں اور ان کی موثر تخلیق ، استعمال اور تقسیم کی حکمت عملی پر مبنی آگاہی۔

شریک چئیر

شریک چئیر جناب سام ولادا(Sam Vallada)، چیف اینٹی فراڈ ڈویژن فلپائن بیورو آف امیگریشن ، اور مس کیتھ ولسن(Cath Wilson)، اسٹنٹ سیکریٹری، آئیڈینٹیٹی برانچ، آسٹریلین ڈیپارٹمنٹ آف امیگریشن اینڈ سیٹیزنشپ کے افتتاحی بیانات نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔

تمام شرکاء اس بات پر خوش تھے کہ انہیں اس خطے میں انسانی اسمگلنگ انسانی ،ٹریفیکنگ اور متعلقہ بین الاقوامی جرائم روکنے کےلئے درکار امداد کے ضمن میں قابل حصول نتائج کے تبادلہ معلومات کا موقع ملا ہے۔

پریزینٹیشن اور گروپ ڈسکشن

ورکشاپ پانچ حصوں پر مشتمل تھی:۔

  • حصہ اول دستاویزات کی معائنہ کاری کی صلاحیت پر تھا۔
  • ای۔ لرننگ ماحول کے مطابق حکمتِ عملی کےلئے حصہ دوم
  • تیسرا حصہ دستاویزات کے معائنہ پر مبنی اشارے اور معلومات پر مشتمل تھا۔
  • چوتھا حصہ دستاویزات کے معائنہ کے لئے موجود آلات پر مرکوز تھا۔
  • پانچواں حصہ فلپائن کی وزارتِ خارجہ کے پاسپورٹ آفس اور فورنزک ڈاکومنٹ ایگزامینیشن لیبارٹری، نی نائے اکینو انٹرنینشل ائیر پورٹ کے دورہ پر تھا۔

پہلے دن آسٹریلیا نے پریزینٹیشن دی جس میں امیگریشن کے ماحول میں درکار دستاویزات کے معائنہ کے مختلف درجات میں فرق کو بیان کیا گیا ۔ اس میں متعلقہ تربیت اور اینٹی ڈاکومنٹ فراڈ مینیجر کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

اس کے بعد فلپائن نے اپنی پریزینٹیشن میں گذشتہ پانچ سالوں کے دوران قائم کی گئی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی لیبارٹری کے تجربات بیان کئے۔ ان پریزینٹیشنز نے تمام شرکاء کو تبادلہ خیالات کے مواقع فراہم کئے اور تفصیلی بحث و تمحیص کی بنیاد بھی فراہم کر دی۔

شرکاء نے اداروں میں دستاویزات کے معائنہ کی صلاحیت کو قائم رکھنے ا ور اس میں ترقی پر گفتگو کی غرض سے تین گروپ بنائے۔ اُنہوں نے تربیت اور ہنرمندی کیساتھ درکار آلات اور دستاویزات کی معائنہ کاری کی تنظیم پر اپنی توجہ دی۔ اُنہوں نے فرنٹ لائن امیگریشن آفیسر ،ثانوی امیگریشن آفیسرز اور مینیجرز کے مشترکہ کردار کو سراہا اور غور و خوض کیا جو کہ دستاویزات کی معائنہ کاری کے نظام میں شامل ہے۔

دوسرے روز کے پہلے حصے میں ان طریقوں پر غور کیا گیا جن کے ذریعے تعلیم و تربیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ جس میں سنگاپور کی جانب سے ایک پریزینٹیشن شامل تھی جو ای۔ لرننگ ڈاکومنٹ ایگزامینیشن کے پورٹیل کے نفاذ اور چلانے پر مبنی تھی۔

شرکاء نے تین گروپ کی شکل میں دستاویزی اشاروں اور معلومات کے تبادلے سے متعلق خیالات پر عملی کام کیا ۔ دلچسپ اور مکالماتی مباحث کے دوران شرکاء نے فراڈ کی نشاندہی کرنے اور دستاویزات کے معائنہ کی حکمت عملیوں کے متعلق اپنے تجربات کا تبادلہ کیا۔ یہ مباحث خاص طور پر دستاویزات کے معائنہ کی صلاحیت اور ان کے اشاروں اور انفارمیشن سسٹم کی روانی اور ترقی پر مبنی ہے۔

آخرِ ہفتہ شرکاء نے محکمہ خارجہ امور کے پاسپورٹ آفس کا دورہ کیا تاکہ فلپائن کے مشین ریڈایبل پاسپورٹ کے اجراء کا مشاہدہ کر سکیں اور نینائے اکینو انٹرنیشنل ائیر پورٹ جاکر فورنزک ڈاکومنٹ لیبارٹری کا جائزہ لیا۔

شرکاء کو دستاویزات کے معائنہ کے آلات دیکھنے کا موقع ملا جو برطانیہ اور سوئزرلینڈ کے دو صنعتی ماہرین نے مہیا کئے تھے جو دیکھنے کے لئے رکھے گئے تھے۔

اہم نکات

  • پہلی سطح پر کام کرنے والے امیگریشن کے عملے کے لئے دستاویزات کے فراڈ کی پہچان کے لیے تربیت ضروری ہے۔
  • ثانوی(سپروائزری) کردار ادا کرنے والے امیگریشن کے عملے کے لئے دستاویزات کے معائنہ کی اعلیٰ تربیت
  • دونوں صورتوں میں دستاویزی فراڈ کی پہچان اور رجحانات پر مبنی وقتاً فوقتاً تربیت ضروری ہے (مثلاً 6 مہینوں میں ایک آدھ دن)
  • پہلی اور دوسری سطح پر دستاویزی فراڈ کی پکڑ کے لئے پیچیدہ اور قیمتی آلات کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
  • اس صورتحال میں دستی یا ڈیسک پر نصب آلات موزوں ہیں اور مہیا کرنے چاہیں۔
  • دستاویزی فراڈ کے اشارے دستاویزات معائنہ کے عملے کےلئے بہت مدد گار ہوتے ہیں اور یہ پہلی اور دوسری سطح کے تمام عملے کو جلدی مل جانے چاہیے۔
  • اس بات کی شدید خواہش ظاہر کی گئی کہ دستاویزی اشاروں سمیت دوسری معلومات کا تبادلہ کیا جائے۔ لیکن اس وقت دستاویزات کے اشاروں کے ابلاغ کے مربوط ذرائع موجود نہیں۔

نتائج

  • شرکاء نے غیر رسمی گروپ قائم کئے ہیں ، جو کہ مزید معلومات کے تبادلہ سے مربوط ہوں گے۔
  • بالی پراسس امیگریشن کے شرکاء نے دستاویزی اشاروں کو اکٹھا کرنے اور آگے پہنچانے کا ایک ماڈل بنانے کے لئے ایک چھوٹا گروپ بنانے پر اتفاق کیا۔ گروپ اپنی دریافتیں واپس شرکاء کو رپورٹ کرے گا اور (ورکشاپ میں بننے والی فہرست پتے پر) گروپ کی ممبر شپ XXXہے۔
  • گروپ یہ بھی دیکھے گا کہ بالی پراسس ویب سائیٹ معائنہ کی معلومات کی سائٹ کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔
  • آسٹریلیا اس بات کی کھوج لگائے گا کہ بنیادی دستاویزی معائنہ کی ای۔لرننگ کا پیکیج تیار کیا جائے اور بالی پراسس ویب سائیٹ کے ذریع عام کیا جائے۔

اظہار تشکر

  • ممبر شرکاء نے اتفاق کیا کہ ورکشاپ کے مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں اور نو ساختہ گروپ کو متحرک رکھنے کی تمنا کی۔
  • ورکشاپ کے شرکاء نے فلپائن اور آسٹریلیا کا ورکشاپ کی میزبانی کرنے، آسٹریلیا، فلپائن اور سنگاپور کے پیش کاروں کی بہترین پیش کشوں اور ورکشاپ سیکریٹریٹ کی فراہم کردہ امداد پر ان کی تعریف کی۔
  • مورخہ 13 جنوری 2017

    ویزے لۓ بغیر اسلام آبادآنے والے دو غیر ملکی ڈیپورٹ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 05 جنوری 2017

    ترکی سے 4 پاکستانی ڈیپورٹ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 07 د سمبر 2016

    یونان سے10 پاکستانی ڈیپورٹ   مزید پڑھیں

  • مورخہ 01 د سمبر 2016

    انسانی سمگلنگ کے ملزم کو 12 سال قید    مزید پڑھیں

  • مورخہ 28 نومبر 2016

    انسانی سمگلرگرفتار کرلیا گیا   مزید پڑھیں

  • مورخہ 27 نومبر 2016

    ترکی سے 7 پاکستانی ڈی پورٹ    مزید پڑھیں

لیگل

وفاقی تحقیقاتی ادارہ © تمام حقوق محفوظ ہیں۔

DESIGNED BY: NR3C

Privacy Policy

Site Map

رہنمائی اور آرا

ادارے کے بارے میں عمومی سوالات

پتہ : ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز، جی 9/4، اسلام آباد پاکستان۔

ہیلپ لائن:786-345-111

ای میل: complaints@fia.gov.pk