Slideshow Image 1
Slideshow Image 2
Slideshow Image 3
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4

شعبہ انسداد رشو ت ستانی

انسداد، رشوت ستانی اور معاشی جرائم کا شعبہ جو کہ قومی احتساب بیوریو کو 2004-08-16منتقل ہوگیا تھا بذریعہ نوٹیفیکیشن مورخہ 2008-08-24 کو واپس آگیا ہے۔

شعبہ انسداد رشوت ستانی ایف آئی اے کا ایک اہم حصہ ہے، جو دہشت گردی اور انسانی سمگلنگ کے علاوہ تمام منظم جرائم کا احاطہ کرتا ہے۔ اس شعبہ کا سربراہ ایک سینئیر پولیس آفیسر ہوتا ہے جو کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیڈ کوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے، اور یہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی معاونت کرتا ہے اور زونل ڈائریکٹر کے ساتھ رابطہ کاری کے فرائض بھی سر انجام دیتا ہے۔

شعبہ انسدادِ رشوت ستانی کے فرائض

  • انسداد رشوت ستانی
  • جعلی ادویات
  • جعلی کرنسی
  • پی بی سی اور دیگر مخصوص قوانین
  • اہم کیسز (اے ۔سی۔ڈبلیو(

جعلی ادویات

ان کی فراہمی ، ترسیل اور فروخت سے معصوم شہریوں کی زندگیوں کی شدید خطرات لاحق ہیں، اور کئی سنگین مضمرات کی حامل ہے، جیسا کہ:
  • سرکاری خزانے کو نقصان/ٹیکس چوری
  • صحت کے سرکاری منصوبوں اور نگران اداروں سے عدم تعاون
  • صارف اور صحت کی صنعت سے دھوکہ
  • کارپوریٹ سرمایہ کاری اور پیداوار میں کمی
  • منظم جرائم کی حوصلہ افزائی

ایف آئی کے شعبہ جرائم نے ادویات کی غیر قانونی کاروبار کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اور جعلی ادویات مالیتی 146ملین سے زائد برآمد کی ہیں اور ان کی تیاری کے آٹھ مراکز سربمہر کر دئیے ۔ تمام صوبائی دارلحکومت میں مخصوص یونٹ برائے روک تھام جعلی ادویات قائم کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے2005،2006میں سڑسٹھ (67)مقدمات درج کئے ہیں۔

جعلی کرنسی

ملکی سطح پر جعلی کرنسی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ہماری معیشت پر برے اثرات مرتب کئے ہیں۔ ایف آئی اے کاشعبہ جرائم جعلی کرنسی کی روک تھام کا ذمہ د ار ہے۔ اس سلسلے میں ایک ٹاس فورس قائم ہے۔جس کا سربراہ گورنر اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے رکن ہے۔ ایف آئی اے نے ملک میں جعلی کرنسی کے تمام مقدمات کا ریکارڈ مرتب کیا ہے۔ ایف آئی اے اپنے دائرہ اختیار میں موجود مقدمات کے سلسلے میں صوبائی/مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے باہم رابطہ کرتا ہے۔

شعبہ انسداد رشوت ستانی (اے سی ڈبلیو) کے اہم مقدمات

  • مقصود احمد مالک میسرز عزیز ری۔رولنگ اسٹیل ملز، ایم ایس روڈ، مومن پورہ، داروغہ والا، لاہور سے متعلق بجلی چوری کی مخبری پر ایف آئی اے کی ٹیم اور لیسکو شالیمار ڈویژن لاہور کے عملے پر مشتمل ٹیم نے تکنیکی ماہر جناب عدنان ریاض میر، مینیجر جانچ پڑتال (ٹیسٹنگ وانسپکشن) لیسکو، لاہور کی موجودگی میں مذکورہ بالا فیکٹری پر چھاپہ مارا، جس میں موجود بجلی کے میٹر بند حالت میں پائے گئے جبکہ 600ایمپیئر بجلی کا لوڈ زیر استعمال تھا۔ مذکورہ فیکٹری مالک براہ راست کنڈی ڈال کر بجلی کی سپلائی لائن میں سوراخ کرنے کے بعد اسے فرش پر لکڑی کے چٹکیوں کے ذریعے چھپا کر بجلی چوری کا مرتکب ہو رہا تھا۔دو عدد بیرونی سرکٹ بریکر نصب بھی کئے گئے تھے جو بجلی کی براہ راست یا میٹر کے ذریعے بجلی کی فراہمی کو حسب منشا ممکن بنانے میں مدد گار تھے۔
  • ایف آئی اے شعبہ جرائم نے اس کا مقدمہ درج کیا اور ملزم مقصود احمد کو مورخہ 2009۔06۔ 12کو گرفتار کر لیا ۔ شعبہ جرائم(کرائم سرکل) نے بجلی چوری میں استعمال ہونے والے سوئچنگ آلات بھی برآمد کر لیے۔ اور ریمانڈ کے دوران ملزم مقصود احمد سے مبلغ /-000،20،3کی رقم بھی برآمد ہوئی۔
  • تحقیقات آخری مراحل میں ہیں اور چودہ دن میں مکمل ہو جائے گی۔

آپریشن ڈیپرن ۔ جعلی ادویات

  • شعبہ جرائم لاہور کو 09-06-12 کو موصول اطلاع میں بتایا گیا کہ چند لوگ جعلی ادویات کی تیاری، بھرائی، فروخت اور ترسیل میں ملوث ہیں۔ ایف آئی اے شعبہ جرائم، لاہور پر مشتمل چھاپہ مار ٹیم نے تقریباً65000 خالی امپاول جن پر ڈیپرن کا مارکہ لگایا تھا، تین پرنٹنگ سکرین کے بلاک اور دو اطالوی ساختہ امپائول بنانے والی مشین بھی برآمد کیں۔ شہزاد انجم (مالک فیکٹری) اور حامد علی (مینیجر) لاہور کے رہائیشی احاطہ میں موجود تھے اور ان کے پاس جعلی مارکہ پرنٹ کرنے اور اصلی ظاہر کر کے استعمال کرنے سے متعلق کوئی قابل قبول جواب نہیں تھا۔ پس دونوں کو گرفتار کر لیا گیا اور ایف آئی اے نے شعبہ جرائم میں مورخہ 2009-07-04زیر دفعہ 420، 468، 471،109پی پی سی مقدمہ درج کیا۔ تفتیش کے دوران ملزم منیر احمد نے اپنا اعترافی بیان زیر دفعہ سی آر۔ پی ۔سی 164قلمبند کروایا۔
  • ڈرگ انسپکٹر کی جانب سے مورخہ 2009-07-18کو استغاثہ موصول ہونے پر ڈرگ ایکٹ 1976 کی متعلقہ دفعات شامل کی گئیںَ مورخہ 2009-07-20کو ڈرگ کورٹ کے روبرو عبوری چالان پیش کیا گیا ۔ ملزمان عدالتی حوالات (جوڈیشل لاک اپ) میں موجود ہیں۔ ضمانت بعد از گرفتاری2009-07-22تک بمورخہ 2009-07-20موقوف کر دی گئی ہے۔
  • انجیکشن سپلائی ہونے والی جگہوں کی نشاندہی کرنے کے لئے تحقیقات جاری ہیں۔

ایڈورڈ کالج پشاور میں ساٹھ ملین روپے کی خورد برد

  • پرنسپل ایڈورڈ کالج پشاور کی شکایت پر پولیس اسٹیشن ، پشاور کینٹ شرقی میں مبلغ ساٹھ ملین روپے کی خوردبرد کا مقدمہ درج کیا گیا جو ہارون شاہد ، اسسٹنٹ اکاونٹنٹ ایڈورڈ کالج پشاور، نعمت اللہ اور اعجاز وغیرہ کے خلاف کالج کے اکائونٹس میں گڑ بڑ سے متعلق تھا۔ وفاقی ملازمین ہونے کی وجہ سے مقدمہ ایف آئی اے پشاور کو منتقل ہو گیا ۔
  • ایف آئی اے ،شعبہ جرائم نے مذکورہ مقدمہ درج کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ تمام ملزمان سے ہوشیاری کے ساتھ تحقیق کی گئی۔ جس کے نتیجے میں ملزم ہارون شاہد نے عدالت کے روبرہ اپنے جرم کا اعتراف کر لیا اور جوڈیشل مجسٹریٹ نے زیر دفعہ 164/364سی آر پی سی ملزم کا اقبالی بیان قلمبند کیا۔ ایف آئی اے شعبہ جرائم نے مبلعغ 304000کی رقم اور دو عدد گاڑیاں بھی برامد کیں۔
  • مزید تحقیقات جاری ہیں۔

آپریشن سکوک

  • یہ مقدمہ ایف آئی اے شعبہ جرائم لاہور میں واپڈا ملازمین کے خلاف تحقیقات کے بعد درج کروایا گیا جس میں دوسرے الزامات کے علاوہ بدعنوانی ، جعلسازی اور شناخت بدلنا وغیرہ شامل ہیںَ ملزمان واپڈ کے 190ملین روپے سے زائد مالیت کے سکوک بانڈز کی غیر قانونی منتقلی و فروخت میں ملوث تھے۔ یہ بانڈز دراصل نینشل فرٹیلائزرز کارپورریشن نے خریدے تھے۔ ملزمان نے ملی بھگت سے یہ بانڈ پہلے سوفٹ انجینئرنگ سلوشن کو بیچے اور بعد ازاں المیزان انویسٹمنٹ مینیجمنٹ لیمیٹڈ کراچی کو فروخت کر دی گئی۔ جرم سے حاصل کرشدہ رقوم مسلم کمرشل بنک اور حبیب بینک، مین مارکیٹ گلبرگ کی شاخوں سے نکلوائی گئیں۔
  • ایف آئی اے کے شعبہ جرائم نے پندرہ میں سے آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا ان میں سے 525۔2ملین روپے کے برابر نقد اور پرائز بانڈ برآمد کئے جو کہ ملزم محمد ریاض نقی(سرغنہ) اور سید ریاض حسین شاہ کے گھر کی تلاشی کے دوران ملے تھے۔ مجموعی طور پر 8۔9 ملین کی نقد برآمدگی ہوئی۔ اس کے علاوہ جرم سے حاصل کردہ رقم سے خریدی ہوئی جائیداد مالیتی 5ء17ملین تقریباً بھی برآمد کر لی گئی۔ ملزمان کو واچ لسٹ میں رکھ دیا گیاہے۔ محمد نقی ریاض کو پکڑنے کے لئے سوکا (SOCA)سے تعاون طلب کر لیا گیا ہے۔
  • مزید تحقیقات جاری ہیں۔

چھاپہ کی رپورٹ

  • شکیل احمد ولد لال محمد سکنہ جلالپور پیر والا ضلع ملتان کی شکایت پر کہ محمد عارف ایس ڈی او، میپکو، سب ڈویژن ، جلال پور پیر والا غیر قانونی طور پر مبلغ 5000روپے مانگ رہا ہے، تاکہ سائل کا ٹیوب ویل کا فرضی بل مبلغ 23،600روپے برائے مئی 2009 درست کیا جا سکے۔ ایف آئی اے کی چھاپہ مار ٹیم زیر نگرانی مجسٹریٹ تشکیل دی گئی۔
  • ایف آئی اے ، شعبہ جرائم ملتان نے چھاپہ مارا اور محمد عارف، ایس ڈی او، میپکو (بی ایس۔17) کو شکایت کنندہ شکیل احمد سے مبلغ 5000روپے رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہوتھوں گرفتار کرلیا۔ ایف آئی آر نمبر 09/34 بتاریخ 2009-06-19زیر دفعہ 161 PPC R/w 47(2) 5, RW,PCA ایف آئی اے ملتان شعبہ جرائم کے دفتر میں محمد عارف ایس ڈی او کے خلاف درج کر لی گئی جو اس مقدمہ میں گرفتار تھا۔
  • مزید تحقیقات جاری ہیں۔

یوٹیلیٹی اسٹورز میں کرپشن

  • مطلع ہوں کہ وارث ولد غلام حسین، انچارج یوٹیلیٹی اسٹورز ، جوہی، ضلع دادو سندھ کو عبرتناک سزا دی گئی ہے۔ جس کے خلاف ایف آئی آر نمبر 97/2 مورخہ 97-02-23پر زیر دفعہ 409پی پی سی 5(2)ایکٹ 1947، ایف آئی اے سندھ نے درج کر لی۔
    مذکورہ شخص 519،122 روپے مالیت کے حصص کی بد عنوانی میں ملوث تھا۔ 2009-08-29 کو ملزم کو اسپیشل جج (وسطی) حیدر آباد کی عدالت نے دس سال قید اور تین لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا سنائی، جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید چھ ماہ قید بھگتنی پڑے گی۔
  • اس طرح کے مقدمات میں سنائی گئی ایک مثالی سزا ہے۔
  • تحقیقات جاری ہیں۔
  • مورخہ 22 فروری 2017

    ہانگ کانگ جانے والامسافر آف لوڈ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 18 فروری 2017

    ترکی اور بلغاریہ ے5 پاکستانی ڈیپورٹ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 05 فروری 2017

    سعودی عرب سے 160 پاکستانی ڈیپورٹ اسلام آباد پہنچ گۓ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 21 جنوری 2017

    جعلی بینک ٹرانزکشن،ایس ایم ای بینک کاسابق ملازم ملوث نکلا    مزید پڑھیں

  • مورخہ 13 جنوری 2017

    ویزے لۓ بغیر اسلام آبادآنے والے دو غیر ملکی ڈیپورٹ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 05 جنوری 2017

    ترکی سے 4 پاکستانی ڈیپورٹ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 07 د سمبر 2016

    یونان سے10 پاکستانی ڈیپورٹ   مزید پڑھیں

لیگل

وفاقی تحقیقاتی ادارہ © تمام حقوق محفوظ ہیں۔

DESIGNED BY: NR3C

Privacy Policy

Site Map

رہنمائی اور آرا

ادارے کے بارے میں عمومی سوالات

پتہ : ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز، جی 9/4، اسلام آباد پاکستان۔

ہیلپ لائن:786-345-111

ای میل: complaints@fia.gov.pk