Slideshow Image 1
Slideshow Image 11
Slideshow Image 12
Slideshow Image 2
Slideshow Image 3
Slideshow Image 4
Slideshow Image 5
Slideshow Image 6
Slideshow Image 7
Slideshow Image 8
Slideshow Image 9
Slideshow Image 10

پائسز

پائسز کے بارے میں

پائسز پروجیکٹ ایک کھوج لگانے والے نظام کے ذریعے ، امیگریشن اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسافروں سے متعلق اہم معلومات مہیا کرتا ہے اور ان کی نشاندہی کرنے یا ضرورت ہو تو مطلوبہ شخص کو پابند کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ ملک گیر نیٹ ورک کا قیام اور مطلوبہ معلومات کا حصول بذریعہ تیز ترین ذرائع مواصلات اور مجاز افراد کے ذریعے حصول۔

پائسز پروجیکٹ ملک کے تمام داخلی و خارجی راستوں کو اپس میں فوری نیٹ ورکنگ(مواصلاتی نظام) کے ذریعے جوڑ سکے گا اور امیگریشن کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اشتراک باہمی اور یکساں اصولوں پر مبنی تعلقات ِ کار کو ممکن بنائے گا۔ اس ضمن میں پائسز سسٹم ملک کے سات بڑے ہوائی اڈوں یعنی اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئیٹہ، ملتان اور فیصل آباد میں 2004 تک لگایا جا چکا ہے۔ اس نظام میں تمام قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں جیسا کہ امیگریشن ، پولیس، نارکوٹکس کنٹرول، انسداد سمگلنگ اور خفیہ اداروں کو مطلوب مشکوک افراد کی معلومات شامل ہیں۔

پاکستان کے اندر اور باہر آنے جانے اور ناپسندیدہ افراد کے ملک میں داخلے کا انتظام و انصرام وزارتِ داخلہ کرتی ہے۔ اس پروجیکٹ نے امیگریشن کی موثر نگرانی کےلئے متعلقہ اہلکاروں کی استعداد بڑھائی ہے۔

 

اس وقت ملک میں آنے اور مک سے باہر جانے والوں کی تعداد اندازً پانچ ملین مسافر سالانہ ہے۔ پروجیکٹ نے امیگریشن اہلکاروں کو مسافروں کے تمام ریکارڈ رکھنے کے قابل بنا دیا ہے، جو کسی بھی مشکوک شخص کی نشاندہی کرنے کے کام آتا ہے اور امیگریشن پالیسی وضع کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگاہ رکھنے کے لئے اور مشکوک افراد کو ملک میں داخل ہونے سے روکنا حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ یہ پروجیکٹ امیگریشن عملے کو آنے جانے والے مسافروں کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی مہیا کر رہا ہے تاکہ تمام مشکوک افراد کی نشاندہی ہو سکے اور حاصل کردہ مواد(ڈیٹا) دوسرے ثانوی استعمال کنندگان کے کام آسکے۔مزید برآن یہ پراجیکٹ انسانی اسمگلنگ کو موثر طور پر روکنے میں مددگار ہے جو کہ آج کل عالمی سطح پر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

پائسیز کی موجودہ ترقی

ہوائی اڈے - - - 12

سمندری بندرگاہ - - - 04

زمینی راستے - - - 05

ریلوے اسٹیشن - - - 02

فوری توسیع کے اہداف

  • ملتان اور فیصل آباد سے بین الاقوامی پروازیں
  • پاکستان کے تمام ہوائی اڈوں سے جاری روانگی کے مقامات کے علاوہ دوسرے مقامات سے حج پروازون کی مکمل نگرانی
  • کراچی ہوائی اڈے سے جمبو ہوائی جہاز کی پرواز میں اضافہ
  • بھارت سے آنے والے مسافروں کے لئے ہوائی ، زمینی اور ریل کی سہولت
  • سمندری بندرگاہوں پر آمدورفت کا اضافہ

پائیسیزپروجیکٹ کی کامیابیاں

  • امیگریشن کی معلومات کے ذخیرہ کا خود کار نظام بمعہ مناسب ثبوت و ریکارڈ۔
  • مشکوک افراد کی مکمل نشاندہی جن کے پاس چوری شدہ یا گمشدہ پاسپورٹ ہیں اور وہ تمام لوگ جو ویزہ اور پاسپورٹ کے اجرائ کے حوالے سے بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔
  • ایگزٹ کنٹرول لسٹ کی مکمل پاسداری کا درست نظام جس کی بدولت گذشتہ خرابیوں کا خاتمہ
  • تمام اداروں اور ایجنسیوں کسے اپنے امور کےلئے بغیر رکاوٹ فوری رابطہ کے ذریعے امیگریشن معلومات کی فراہمی
  • مقرر تاریخوں کے اندر کسی خاص ہوائی اڈے پر مسافروں کی آمدورفت کی تفصیلی رپورٹ کی فوری فراہمی، کسی خاص قومیت کے مسافروں کی پاکستان آمدورفت کا ریکارڈ ۔ ایسی رپورٹس وزارتِ داخلہ اور بین الاقوامی اداروں کو درکار ہوتی ہیں۔

پائسیز سے جاری استفادہ

  • پولیس رجسٹریشن سسٹم سے پائسز سسٹم کو جوڑ کر پاکستان میں غیر قانونی قیام پذیر افراد کا پتہ چلانا۔
  • ملک میں سیاحت کا فروخ۔ قومیت کے لحاظ سے مسافروں کی پاکستان آمد کے اعتبار سے کسی ملک کو ہدف بنانا۔
  • انسدادِ دہشت گردی کےلئے پائسز سسٹم کے ذریعے ایجنسیاں اور پولیس معلومات کے ایک حصے کو دوسرے حصوں مثلاً ٹیلی فون نمبر، گاڑی کانمبر، پتہ وغیرہ سے ملا کر نتائج تک پہنچ سکتی ہیں۔
  • ایف بی آر ان ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی کر سکتا ہے جو اکثر بیرون ملک تجارتی دورے کرتے ہیں۔ لیکن ٹیکس گوشواروں میں اس کا ذکر نہیں کرتے۔
  • انٹر پول نے ہزاروں افراد کے وارنٹ جاری کئے ہوئے ہیں جو دوسرے ملکوں میں ہیں اور جرائم میں ملوث ہیں۔ اگر ان افراد کی معلومات پائسز سسٹم میں درج کر لی جائیں تو یہ لوگ پاکستان آتے جاتے ہوئے پکڑے جا سکتے ہیں۔
  • جعلی دستاویزات پر لوگوں کو باہر بھیجنے والے انسانی اسمگلروں کے گروہ کی نشاندہی۔
  • مخصوص ملکوں کے ویزا سسٹم کی پائسز سسٹم سے الحاق تاکہ جعلی ویزہ کا کاروبار کا خاتمہ ہو سکے۔
  • 11ستمبر 2011کےبعد دنیا کے ممالک دوسرے ملکوں میں اپنے سفارت خانوں سے جاری کردہ ویزہ کی معیاد کا بہت خیال کرتے ہیں۔ پاکستان جانے کے خواہشمند بیرونی مسافروں کو ویزہ کے اجراء کے لئے وہاں پر موجود ہمارے سفارت خانوں کے جاری کردہ اعداد و شمار کو پائسز سسٹم سے چیک کیا جا سکتا ہے۔
  • مورخہ 16 فروری 2017

    مسلح افواج کے نام پر255جعلی سوشل میڈیا اکاونٹس کا انکشاف    مزید پڑھیں

  • مورخہ 15 فروری 2017

    دو گیٹ وے ایکسچینج پکڑی گۂیں    مزید پڑھیں

  • مورخہ 09 فروری 2017

    ایف آئی آے کا نجی ٹریولز ایجنسی پرچھاپہ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 06 فروری 2017

    کشتی حادثہ:سرگودھا سے بھی ایک ایجٹ گرفتار    مزید پڑھیں

  • مورخہ 05 فروری 2017

    چارانسانی اسمگلر گرفتار کر لۓ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 01 فروری 2017

    ترکی سے ڈی پورٹ ہونے والے 34 افراد گرفتار    مزید پڑھیں

  • مورخہ 30 جنوری 2017

    فحش وڈیو بنانے،انٹرنیٹ پر ڈالنےمیں پنجاب سرفہرست    مزید پڑھیں

  • مورخہ 28 جنوری 2017

    بلیک لسٹ پاسپورٹ پر سفر کی کوشش،مسافرآف لوڈ    مزید پڑھیں