Slideshow Image 1
Slideshow Image 2
Slideshow Image 3
Slideshow Image 4
Slideshow Image 4

انٹگریٹڈ بارڈر مینیجمنٹ سسٹم

غیر قانونی سفری دستاویزات، انسانی اسمگلنگ، ناپسندیدہ عناصر کی آمدوروفت کے خطرے نے ہمارے اندرونی و بیرونی سماجی نظام میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے اور دنیا میں پاکستان کے تشخص کو مجروح کر دیا ہے۔جرم کی پرورش قابل اعتمادشناخت وباوثوق دستاویزات کو یقینی بنانے میں حکومتوں کی ناکامی کی وجہ سےہوتی ہے، جو اپنے باشندوں کے سفری دستاویزات اور اپنی سرحدوں سے آنے والے غیر ملکیوں کے ویزا کے سلسلے میں برتی جاتی ہے اور یہ چیزامیگریشن مقامات پر دھوکہ دہی پر مبنی نقل وحرکت کی نشاندہی کرنے والے نظام کی عدم موجودگی کیوجہ سے بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان میں یہ مسئلہ زیادہ شدت سے موجود ہے اور اقوامِ عالم میں قومی وقار پر سوالیہ نشان ہے۔

بین الاقوامی مسافروں کی آمد/روانگی کے ریکارڈ کےلئےسن 2002 ء میں حکومت ریاستہائے متحدہ امریکہ کے جزوی تعاون سے پرسنل آئیڈینٹیکفیکشن سیکیور کمپیریزن اینڈ ایویلیوایشن سسٹم (پائسز) کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ پروجیکٹ دستاویز میں موجودتمام اہداف مختص کردہ بجٹ سے ہی حاصل کر لئے گئےہیں۔ پائسز کی مندرجہ ذیل خصوصیات تھیں۔

 
  • پاکستان آنے اور جانے والے بین الاقوامی مسافروں کا مصدقہ ذخیرہ معلومات (ڈیٹا بیس) بمعہ ثبوت اور دستاویزات(تصویر، پاسپورٹ کی سکین شدہ نقل وغیرہ) قائم ہو گیا ہے۔
  • بڑی تعداد میں جعلی اور مشکوک سفری دستاویزات کی نشاندہی ہوئی ہے اور اب پائسیز سے بچ کر جعلی دستاویزات پر سفر کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔
  • متعلقہ اداروں کی بڑی تعداد( قانون نافذ کرنے والے ادارے، انٹر پول، غیر ملکی سفارت خانے وغیرہ) اس سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔
  • پائسز کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے اور اس کو دہشت گردی کے خلاف موثر ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ انسانی اسمگلنگ کا مقابلہ کرنے اور اس میں کمی لانے اور ان لوگوں کی حوصلہ شکنی جو پاکستان کے امیگریشن سسٹم کو چکمہ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
  • پائسز نے تمام متعلقہ شراکت داروں کو ایک باہم رضا مندی سے منظور شدہ پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے جس کے ذریعے متفقہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ کا نفاذ کیا جا سکے۔

پائسیز کے نفاذکے دوران امیگریشن کے کئ مسائل ابھر کر سامنے آئے (ای۔سی ایل کا نفاذ اور مشکوک کاغذات کی نشاندہی) جس سے ماہرانہ انداز میں نپٹا گیا۔ لیکن ساتھ ہی پائسز کے جاری نظام میں کئی ایسے چونکا دینے والے معاملات سامنے آئے ہیں۔ جن پر ترجیحی بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مجوزہ آئی بی ایم ایس پاکستان آنے والے تمام غیر ملکیوں کی نقل و حرکت کا اندراج کرنے کا خواہاں ہے۔ یہ ویزا کے اجراء سے شروع ہو کر پاکستان میں داخلے، نقل و حرکت اور پاکستان سے واپسی تک محیط ہے۔ پاکستان میں زائد قیام کرنے والے مشکوک افراد غیر قانونی قرار دئیے جائینگے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایجنسیاں اس پر اپنے طریقے سے کام کریں گی۔ آئی بی ایم ایس تمام مقررہ رستوں سے گزرنے والے ہر مشکوک مسافر کو چیک کرے گا۔ آئی بی ایم ایس اپریل 2008ء میں سی ڈی ڈبلیو پی سے پروجیکٹ کی کل لاگت 401۔421ملین روپے میں منظور ہوا۔

ایم آر پی ذخیرہ معلومات(ڈیٹا بیس) سے الحاق

آئی بی ایم ایس کو مشین ریڈایبل پاسپورٹ کی مرکزی مشین (سرور) واقع ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ سے ملا دیا جائے گا اور یہ رابطہ آئی بی ایم ایس کے انفرادی اہلکار کی بجائے آئی بی ایم ایس کے مرکزی و مقامی مشینیں/سرور کر سکیں گی۔

آمد اور روانگی کے وقت پیش کئے جانے والے پاسپورٹ اور ویزا کو مقامی طور پر تصدیق کیا جائے گا، جہاں بوقت ضرورت ایم آر پی کے ذخیرہ معلومات(ڈیٹا بیس ) سے مدد لی جا سکتی ہے۔

  • سسٹم غیر ملکی مسافروں کی معلومات درج رپورٹ اور کاروائی کرے گا۔
    • ذاتی معلومات
    • پاسپورٹ اور ویزا کی تفصیلات
    • پاکستان میں موجود پتے
    • زائد القیام کے معاملات
    • رہائشی اجازت نامے کا اجرا
    • ڈی پی او کی جانب سے فراہم کردہ مصروفیات کی تفصیل
    • سفر کی گزشتہ تفصیلات
    • ویزا کی مدت میں اضافہ
    • مزید خصوصیات
  • یہ سسٹم پاکستان سے جعلی دستاویزات پر جانے اور غیر قانونی قیام کرنے والے پاکستانیوں کی نشاندہی کرے گا۔ اس سلسلے میں یہاں پر موجود غیر ملکی سفارت خانوں سے رابطہ کیا جائے گا۔
  • متعلقہ ڈی پی او کے دفاتر، اسپیشل برانچ، وزارت داخلہ، آمدوروفت کی بندرگاہوں پر مکمل طور پر مقامی ذخیرہ معلومات(ڈیٹا بیس) کی موجودگی اور مطلوبہ انتظامی رپورٹس/سوالات کی فراہمی۔
  • تمام بندرگاہوں پر اِن غیر ملکیوں کے ناقابلِ تردید نظام کے ذریعے آن لائن اندراج کی سہولت-
  • کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے غیر ملکیوں کی خبر گیری ۔ یہاں تک کہ وہ ملک سے باہر چلا جائے یا ویزہ مدت ختم ہونے پر غیر قانونی تارک وطن کا درجہ حاصل کر لے۔
  • باہر جانے والے تمام پاکستانیوں سے آگاہی اور غیر قانونی تارکین وطن کی نشاندہی۔
  • انسانی اسمگلنگ میں ملوث اسمگلرز، ان کے شکار افراد، ذرائع نقل و حرکت اور طریقہ کار کی نشاندہی-
  • پاکستان میں زائد القیام معاملات کی دیکھ بھال کا مضبوط نظام۔
  • داخلہ و اخراج کے مقامات ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ملک گیر رابطہ کا نظام اور وزارتِ داخلہ کا بیرون ملک قونصل خانوں سے رابطہ۔
  • تمام شراکت داروں کے لئے مرکزی ڈیٹا بنک
  • غیر ملکی کی جانب سے کسی ایک جگہ پر دی گئی معلومات پورے ملک میں اس کے دوران قیام ہر جگہ پر تصدیق کی خاطر موجود ہو گی۔
  • ان تمام شرکائے کار کو غیر ملکیوں کے کوائف تک (دیکھنے کی حد تک) رسائی ہوگی، مثلاً ہوٹل، بنک، پراپرٹی، وغیرہ ۔
  • مخصوص شریک کار کے لئے متعلقہ معلومات اور مصروفیات کی تیز تر تلاش۔
  • 7×24 رپورٹنگ اور اندراج کا نظام۔
  • زائد القیام معاملات کی ازخود رپورٹنگ
  • گذشتہ کاروائیوں کا جامع ریکارڈ اور محفوظ رابطے کےلئے مصدقہ نظام
  • اعلیٰ سطحی انتظامی تجزئیے کےلئے رپورٹس کا اجرا جس میں غیر ملکی مسافر کے رحجانات کا تعین ہو
  • مشکوک گروپ اور تنظیموں کے ارکان میں رابطے کی نشاندہی۔
  • انٹیلی جنس ایجنسیوں کےلئے مختص لنک کے ذریعے جمع شدہ معلومات پر مبنی انتظامی رپورٹس یا مخصوص مطلوبہ معلومات کی فراہمی۔
  • قابل توسیع اور اس طرز پر مبنی نظام جس کو باآسانی بہتر بنایا جا سکے اور چلایا جا ئے۔ آئی بی ایم ایس شروع میں تجرباتی بنیاد پر اسلام آباد میں ایک خودمختار اکائی کے طورپر چلایا گیا۔ سات دن کے تجرباتی آغاز کے بعد ، آئی بی ایم ایس کی سٹئیرنگ کمیٹی کی تسلی کے مطابق(جو کہ منظور شدہ پی سی۔ون میں درج ہے) آئی بی ایم ایس نے مقررہ وقت کے اندر منظم طریقے سے پائسز کی جگہ لے لی ہے۔
  • آئی بی ایم ایس نے پائسز کی جگہ سنبھال لی ہے اور درج ذیل آمدورفت کے مقامات پر نصب کر دیا گیا ہے۔

آئی بی ایم ایس کی تنصیب کے مقامات

مقام کی نسبت سے سٹاپ لسٹ میں آنے والے کیس۔

مسافروں کا مکمل ریکارڈ

  • مورخہ 07 نومبر 2017

    ترکی سےپانچ پاکستانی ڈیپورٹ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 03 نومبر 2017

    جعلی ویزے پر اٹلی جانے والا گرفتار    مزید پڑھیں

  • مورخہ 01 نومبر 2017

    پاسپورٹ ہٹ ہونے پر مسافرزیرحراست    مزید پڑھیں

  • مورخہ 30 اکتوبر 2017

    ترکی میں پاکستانیوںکو اغواکرنےوالے گینگ کااہم رکن گرفتار    مزید پڑھیں

  • مورخہ 28 اکتوبر 2017

    گردوں کا غیرقانونی پیوند:سابق گورنرپنجاب کا بھانجاسرغنہ نکلا    مزید پڑھیں

  • مورخہ 24 اکتوبر 2017

    ترکی سےسات پاکستانی ڈیپورٹ    مزید پڑھیں

  • مورخہ 03 اکتوبر 2017

    پاسپورٹ ہٹ ہونے پرتین افراد کوروک لیا گیا    مزید پڑھیں

لیگل

وفاقی تحقیقاتی ادارہ © تمام حقوق محفوظ ہیں۔

DESIGNED BY: NR3C

Privacy Policy

Site Map

رہنمائی اور آرا

ادارے کے بارے میں عمومی سوالات

پتہ : ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز، جی 9/4، اسلام آباد پاکستان۔

ہیلپ لائن:786-345-111

ای میل: complaints@fia.gov.pk